جمعہ 7 اگست 2026 - 20:58
دنیا نے مزاحمت کی قدر و قیمت کو سمجھ لیا، ایرانی قوم اپنے اصولوں سے پیچھے نہیں ہٹے گی: آیت اللہ اعرافی

حوزہ/ قم کے امام جمعہ آیت اللہ علی رضا اعرافی نے ایران کی حالیہ جنگ اور مزاحمت کو عالمی و تہذیبی سطح پر اہم تجربہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس جنگ نے دنیا کے سامنے آٹھ اہم اسباق پیش کیے، جن میں عالمی اخلاقی و قانونی نظام کی ناکامی، امریکہ و صہیونی حکومت کی حقیقت کا آشکار ہونا اور مزاحمت کی اہمیت کا دنیا پر واضح ہونا شامل ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قم کے امام جمعہ آیت اللہ علی رضا اعرافی نے ایران کی حالیہ جنگ اور مزاحمت کو عالمی و تہذیبی سطح پر اہم تجربہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس جنگ نے دنیا کے سامنے آٹھ اہم اسباق پیش کیے، جن میں عالمی اخلاقی و قانونی نظام کی ناکامی، امریکہ و صہیونی حکومت کی حقیقت کا آشکار ہونا اور مزاحمت کی اہمیت کا دنیا پر واضح ہونا شامل ہے۔

آیت اللہ اعرافی نے قم المقدسہ میں نماز جمعہ کے خطبوں میں کہا کہ مزاحمت دراصل بڑے اہداف کے حصول کے لیے ایک دانشمندانہ صبر کا نام ہے۔ ایرانی قوم نے اسی راستے کو اختیار کرتے ہوئے اسلامی تمدن کی جانب پیش قدمی کا عزم کیا ہے۔

انہوں نے حالیہ جنگ کے آٹھ اہم اسباق بیان کرتے ہوئے کہا کہ پہلا سبق معاصر دنیا میں اخلاقی نظام کا انہدام ہے، کیونکہ بڑی طاقتوں نے انسانی اور اخلاقی اصولوں کو پامال کیا ہے۔ دوسرا سبق عالمی قانونی و بین الاقوامی نظام کی ناکامی ہے؛ سلامتی کونسل سمیت عالمی ادارے ظلم کے مقابلے میں خاموش رہے یا ظالموں کا ساتھ دیتے رہے۔

تیسرے سبق کے طور پر انہوں نے امریکہ اور صہیونی حکومت کی حقیقی ماہیت کے آشکار ہونے کا ذکر کیا اور کہا کہ بچوں کے قتل، نسل کشی، بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور بے رحمانہ کارروائیوں نے ان کی حقیقت دنیا پر عیاں کر دی ہے۔ چوتھا سبق یہ ہے کہ دشمن کے وعدوں اور مذاکرات پر اعتماد کی کوئی ضمانت باقی نہیں رہی، کیونکہ انہوں نے اپنے معاہدوں کی بھی پاسداری نہیں کی۔

آیت اللہ اعرافی نے کہا کہ پانچواں سبق یہ ہے کہ خطے کے ممالک سمجھ چکے ہیں کہ امریکہ سے مانگی گئی عاریتی سلامتی فائدہ مند نہیں۔ چھٹے سبق کے طور پر انہوں نے امریکہ کو ’’شیشے کے محل‘‘ سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ دنیا نے دیکھ لیا کہ ایران اور محورِ مزاحمت کے مقابلے میں امریکہ کی طاقت محدود ہے۔

انہوں نے ساتویں سبق کے طور پر ایرانی قوم کے عزم و استقامت کا ذکر کیا اور کہا کہ یہ قوم اسلام، انقلاب، قیادت اور مسلح افواج کی حمایت میں اپنے راستے سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ آٹھویں اور اہم ترین سبق کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ دنیا نے مزاحمت کی قدر و قیمت کو سمجھ لیا ہے اور دشمن ایرانی قوم کو تسلیم کرنے پر مجبور کرنے کا خواب کبھی پورا نہیں کر سکے گا۔

مدیر حوزات علمیہ ایران نے مزید کہا کہ مزاحمت کے تسلسل کے لیے بیداری، بصیرت، شجاعت، میدان میں موجودگی، سائنسی و تکنیکی ترقی، اجتماعی اتحاد اور قیادت کی پیروی ضروری ہے۔ انہوں نے مضبوط عسکری و دفاعی طاقت کو آج کے دور میں ملک کی بقا کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے جهادی طرزِ مدیریت اور عوامی تعاون پر زور دیا۔

آیت اللہ اعرافی نے ثقافتی اصلاحات، دینی اقدار اور حجاب کے مسئلے پر بھی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مزاحمت کے تسلسل کے لیے معاشرے کی پاکیزگی اور اخلاقی استحکام ضروری ہے۔

انہوں نے اربعین کے شاندار انعقاد میں ایران و عراق کے عوام اور منتظمین کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اربعین کو ایک عظیم تہذیبی سرمایہ قرار دیا جس پر مزید تحقیق اور سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔

نماز جمعہ کے پہلے خطبے میں آیت اللہ اعرافی نے مزاحمت کے دو بنیادی عناصر عزتِ نفس اور صبر کو قرار دیا۔ ان کے مطابق صبر صرف مشکلات برداشت کرنے کا نام نہیں بلکہ کبھی یہ ایک فعال اور اختیاری عمل بن جاتا ہے، جس کے تحت انسان بڑے دینی، اجتماعی اور انسانی اہداف کے لیے مشکلات کا سامنا کرتا ہے۔

انہوں نے قرآن کریم کی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صبر اور تقویٰ دشمن کی سازشوں کے مقابلے میں انسان کو مضبوط بناتے ہیں۔ ان کے بقول جب صبر ایک فرد کی ذاتی خصوصیت سے بڑھ کر معاشرے کی اجتماعی ثقافت بن جائے تو قوم مشکلات کے مقابلے میں شکست ناپذیر ہو جاتی ہے۔

آیت اللہ اعرافی نے تاکید کی کہ مزاحمت دراصل آزادی، عزت اور بڑے اجتماعی اہداف کے حصول کے لیے فعال، اجتماعی اور آرمان محور صبر ہے؛ یہی تصور اسلامی انقلاب کی فکری میراث بن کر عالم اسلام میں ایک نظریے کی صورت اختیار کر چکا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha